Baseerat Online News Portal

تلاوت، تدبر اور تفکر

 

مفتی محمد احمد نادر القاسمی

رفیق علمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

 

”افلایتدبرون القرآن فھل من مدکر“ قران انسان کی ہدایت اور رہنماٸی کے لیے اللہ کی طرف سے نازل ہونے والا آخری ہدایت نامہ ہے۔ اس کتاب عظیم کے نزول کے ساتھ ہی اللہ کی طرف سےآنے والے پیغامات وہدایات کا سلسلہ بھی پوراہوا اورقیامت تک کے لئے ختم ہوگیا اورنبی آخر الزماں محمدرسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء والمرسلین کی آخری نبی کی بعثت کے ساتھ ہی نبیوں کے آنے کا نظام بھی مکمل ہوگیا۔ اب نہ توکوٸی نبی دنیامیں مبعوث ہوں گے اورنہ کوٸی کتاب اترے گی۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“۔ اس کامطلب یہ ہےکہ اب دنیامیں قیامت تک پیداہونے والے انسانوں کو اپنی ہدایت اوررہنماٸی قران ہی سے حاصل کرنی ہے اورمحمدرسول اللہ کے بتائے ہوٸے طریقہ پر چلنا اورزندگی گزارناہے۔ اس کے علاوہ کوٸی بھی دستور، کوٸی بھی طریقہ اللہ کے نزدیک نہ توقابل قبول ہے اورنہ ہی کامیابی کاضامن”ومن یبتغ غیرالاسلام دینا فلن یقبل منہ“ ۔

اس تمہید کے بعد میں قارٸین کی توجہ اس جانب مبڈول کرانا چاہتاہوں کہ قران کریم کے ساتھ انسان کی وابستگی کے بنیا دی طور پر تین طریقے ہیں ۔ایک لسانی جسے تلاوت کہا جاتاہے۔ دوسرے عملی جسے ”عمل بالقران“ کہاجاتاہے۔ اورتیسرے ذہنی اورقلبی جسے تدبر اورتفکر کہاجاتاہے اورتینوں ہی انسان کے لیے دنیا اورآخرت دونوں کے اعتبار سے باعث سعادت اور خیروثواب کاضامن ہے۔۔اسی کے ساتھ ایک اورأصطلاح کو جوڑلیجیے۔یعنی نظری جس کامطلب ہے آیات قرانی پر اپنی نگاہیں جمائے رکھتے ہوئے پڑھتے چلاجانا۔ قطع نظر اس بات کے کہ آیات کامفہوم اورمعانی سمجھ میں آرہا ہے یانہیں۔ اورمطالعہ قران یہ ہے کہ نگاہ ودل سے اس طرح قران کو پڑھاجائے کہ اس کے معانی اورمفاہیم کا ادراک بھی ہوتاجائے ۔ اب ہم اس مقالے کے عنوان پر غور کرتے ہیں جوخود قرانی اصطلاح ہے۔ تلاوت : ہماری عجمی اصطلاح کے مطابق جن کی زبان عربی نہیں ہے تلاوت کامفہوم یہ ہےکہ قرانی آیات اورآیات کے جملوں کو اپنی زبان سے اتنی آواز میں پڑھنا کہ تلاوت کی آواز اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی تک یاکم از کم خود اسکے کانوں تک پہونچے۔ اس سے کم پر تلاوت کااطلاق نہیں ہوگا۔(مفسرین کی صراحت کے مطابق) اگر اتنی بھی آواز تلاوت میں نہیں نکالی جاتی تو اسے لسانی تلاوت نہیں بلکہ محض نظری یا نظرسے قرانی آیات کو دیکھناکہاجائے گا۔ اس لیے تلاوت قران کاثواب پانے کے لیے جوحدیث کے مطابق ایک حرف پڑھنے پر دس نیکیاں ہیں کم از کم اتنی آواز میں پڑھناکہ زبان سےاداہونے والے حروف کی آواز اورلسانی صوت اپنے کان تک پہونچے اورگنگناہٹ کے ساتھ پہونچے تو اوراچھی بات ہے۔ تفکراورتدبر: قران کریم کی آیات اوراس کی بندش میں چھپے ہوئے منشائے الہی تک رسائی حاصل کرنے اورمعانی اورمفاہیم کو یک سو ہوکر اپنے دل ودماغ میں جذب کرنے کانام تفکر اورتدبرہے۔ اس کافاٸدہ یہ ہے کہ اس سے علم حقیقی کاحصول وادراک بھی ہوتا ہے اورثواب بھی ہے۔ قرانی اصطلاح میں قران کے اولین مخاطب یااہل عرب کی طرف تلاوت کی نسبت کی جائے تو تلاوت تینوں اصطلاح کو جامع ہے۔ مگر ایک عجمی کے لیے تلاوت کا لفظ جب بولاجائے گا تو اس کامطلب ہوگا صرف الفاظ قران کو پڑھنا۔ یہاں یہ اعتراض بے معنی ہے کہ جب قران کا مفہوم سمجھ ہی نہیں رہے ہیں تو تلاوت سے کیا فاٸدہ۔؟ ایسانہیں ہے۔ فاٸدہ دونوں کا ہے اپنے اپنے مقام ومرتبہ کی حثیت سے ۔ اللہ تعالی ہمیں قران سے تلاوت عمل اورتدبروتفکر ہراعتبار سے وابستگی کی توفیق دے ۔ آمین

Comments are closed.