کرشنا ہیگڑے جی کے روشن مستقبل کے لیےاس مسجدمیں ہمیشہ دعائیں ہوتی رہتی ہیں

مکرمی!
کرشنا ہیگڑے ممبئی کے ایک ایسے لیڈر ہیں جن کی خوبیاں دوسرے لیڈروں سے بالکل مختلف ہیں۔ وہ اپنے دفتر میں ذمہ داری کے ساتھ بیٹھتےہیں، اور کبھی کسی ضرورت مند کونہیں لوٹاتے ہیں،بروقت اس کاکام کرکے دیتے ہیں، وہ اپنے فون سے ہی تمام مسائل حل کرتے ہیں۔ ہر ایک کو ان کا کام کرنے کا طریقہ پسند ہے۔ 2009 سے 2014 تک ایم ایل اے کے طور پر ان کے کام کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔
ان کے مداحوں کی فہرست کافی لمبی ہے، ان میں سے ایک مدرسہ عربیہ تعلیم الاسلام ٹرسٹ بھی ہے، اس ٹرسٹ کے تمام ذمہ داران کرشنا ہیگڈے جی کے کام کرنے کے انداز کی بہت تعریف کرتے ہیں۔
دراصل، مدرسہ عربیہ تعلیم الاسلام، جسے 1971 سے مسجد کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا، ملن سب وے پر فلائی اوور کے نیچے آ گیا، جس کی وجہ سے ایم ایم آر ڈی اے کے افسران نے مسجد کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی بات کی۔ شریعت کے مطابق مسجد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن شہر کی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرسٹ نے انتظامیہ کی اس تجویز کو مان لیا۔
ترقی کے نام پر مسجد ٹرسٹ کی یہ بات کرشناہیگڑے جی کو پسند آئی جس کی وجہ سے وہ پوری طرح ٹرسٹیز کے ساتھ کھڑے رہے۔ وہیں ولے پارلے کے کچھ لوگ مسجد مدرسہ کی تعمیر کی مکمل مخالفت کر رہے تھے۔لیکن کرشنا ہیگڑے جی نے پولیس کی مدد سے اس مسجد کی تعمیر میں ٹرسٹ کی ہر طرح سے مدد کی جسے ایم ایم آر ڈی اے نے منتقل کیا تھا۔ ٹرسٹ کے عہدیدار کرشنا ہیگڑے جی کے اس احسان کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
یہی نہیں، اس مسجد میں نماز پڑھنے والے تمام نمازی ہمیشہ کرشناہیگڑے جی کے روشن مستقبل کے لیے دعا کرتے ہیں۔
دعاگو
رمضان بھاٹی، ولے پارلے
Comments are closed.