Baseerat Online News Portal

قلمی چہرے‘ اور آغا شورش کاشمیری کی چہرہ نویسی

 

نایاب حسن

آغاشورش کاشمیری اردو کے بانکے،البیلے اور انوکھے ادیب ہیں جن کی پوری زندگی نہایت ماجرا پرور رہی اور جن کی ادبی و قلمی فتوحات میں غضب کا تنوع،دلکشی اور رنگارنگی پائی جاتی ہے۔شورش تحریکِ آزادی کے مجاہدین میں شامل رہے اور بیسویں صدی کی متعدد ہندوستانی سیاسی و سماجی تحریکوں اور شخصیات کو قریب سے دیکھا،برتا،پرکھا اور ان میں سے کئیوں کے ہم قدم رہے،ان کے ساتھ مل کر کام کیا اور اپنی شعلہ بجاں طبیعت کی تابش سے ان تحریکوں کو چمکائے رکھا۔شورش آزادی(وتقسیم) ہندتک زیادہ تر سیاسی سرگرمیوں میں منہمک اور نتیجتا قید و بند کی ہوا کھاتے رہے،اس وقت تک ان کے قلم سے گنی چنی تحریریں اور کچھ مرتب کتابیں ہی منظر عام پر آسکیں،البتہ طبیعت میں روانی اور قوتِ تحریر میں بلا کا تموج تھا،جو آزادی کے بعد گویا منھ زور ہوتا گیا اور پے درپے ان کے قلم سے متعدد کتابیں معرض وجود میں آئیں،جن میں ان کی خود نوشتیں : بوے گل نالۂ دل دودِ چراغ محفل،پسِ دیوارِ زنداں،موت سے واپسی،تمغۂ خدمت خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ان کے علاوہ مولانا آزاد،سید عطاء اللہ شاہ بخاری ،ظفر علی خاں، میاں افتخارالدین وغیرہ پر سوانحی کتابیں لکھیں، اقبال اور اقبالیات پر بھی خوب لکھا، مختصر اور طویل خاکوں کا مجموعہ ’نورتن ‘ ہے، ہفت روزہ ’چٹان‘لاہور سے جاری کیا اور اس میں بھی تاحیات (1975) مختلف النوع ادبی،سیاسی و سماجی موضوعات پر اداریے اور مضامین مسلسل لکھتے رہے۔ان کی خطابی معرکہ آرائیاں بھی مسلسل جاری رہیں اورشعری مجموعے بھی آتے رہے ،جوبعد میں کلیات کی شکل میں کم و بیش دوہزار صفحات میں شائع ہوئے۔

شورش کی روایتی تعلیم معمولی تھی،مگر شوقِ مطالعہ فراواں تھا اور مشاہدۂ کائنات و ملاحظۂ اشخاص میں بھی انھیں کمال حاصل تھا؛چنانچہ ان کی آزادی سے پہلے اور بعد مختلف علمی،ادبی،سماجی و سیاسی پس منظر سے تعلق رکھنے والی نہ معلوم کتنی شخصیات سے معاملت رہی ، انھوں نے اپنے تئیں ان کی تہوں میں اُترکر انھیں سمجھنے کی کوشش کی اور وقتاً فوقتاً ان کے حوالے سے اپنے تاثرات یا ان شخصیات کی قلمی تصویر کشی بھی کرتے رہے۔اردو میں ’خاکے‘ کی مجمل تصویر’چہرے‘ کا روپ ہوتی ہے،جس میں ادیب مختصر مگر پر اثر جملوں سے متعلقہ شخصیت کی پوری شبیہ تراشتا ہے۔خواجہ حسن نظامی کواردومیں چہرہ نویسی یا قلمی تصویر کشی کے باب میں اولیت حاصل ہے،پھر اور لوگوں نے بھی اس حوالے سے اپنے جوہر دکھائے ،جن میں ایک بڑا نام شوکت تھانوی کا ہے،شورش کاشمیری بھی اسی صف میں آتے ہیں۔ان کی قلمی تصویروں کی کتاب پہلی بار 1965میں مکتبہ ماحول کراچی نے شائع کی تھی،جس میں90سے زائد شخصیات کے چہرے تھے۔اس کے بعد بھی وفات تک ان کی چہرہ نویسی کا سلسلہ چلتا رہا اور بہت سے نئے’چہرے‘ ان کے دائرۂ تحریر میں آئے،جو عموماً ان کے اخبار ’چٹان‘ میں اشاعت پذیر ہوئے۔ان سب کو اور پچھلی کتاب کے چہروں کو یکجا کرکے ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری نے کراچی سے 1999میں شائع کروایا اور اس کا نام رکھا’قلمی چہرے‘۔پچھلی کتاب میں 93شخصیات کے چہرے تھے اور ان میں اضافہ82شخصیات کا ہوا،یعنی کل 175شخصیات کے چہرے جمع ہوگئے۔

مجموعی طور پر شورش کاشمیری کا اسلوبِ تحریر بڑا پرجمال اور دل و نگاہ کو اسیر کرنے والا ہے،لفظوں کے انتخاب؛بلکہ ایجاد و اختراع میں انھیں درک حاصل ہے اور نت نئی تعبیریں اور فقرے ڈھالنے میں ان کا جواب نہیں ۔جدید الفاظ و تعبیرات کے علاوہ پامال ترکیبوں اور پیش پا افتادہ الفاظ کو بھی جب وہ اپنی عبارتوں میں برتتے ہیں،تو ان میں گویا نئی زندگی عود کر آتی ہے،وہ کِھل اٹھتے ہیں اور ان کے قاری پر معانی کے نئے جہان کھُلتے ہیں۔خاص طور پر جب وہ کسی شخصیت کی مرقع کشی کرتے ہیں،تو ان کے قلم کی شوخی و رنگینی اوج پر ہوتی ہے،زیرتحریر شخص کے اچھے اوصاف کو اجالنے اور کہتر معاملات کو اچھالنے کے لیے شورش جو پیرایۂ تحریر استعمال کرتے ہیں،اس میں ایک نوع کی جدت، زور، عمق اور ہمہ گیری پائی جاتی ہیں اور ایسے بعض جملوں کو پڑھ کر طبیعت پھڑک اٹھتی ہے۔شورش ایک عصری خطیب تھے، یعنی خطابت کی تمام فنی اداؤں میں ڈھلے ہوئے ، جس کے نہایت جلی اور واضح نقوش ان کی تحریروں میں پائے جاتے ہیں اور ’اِک پھول کے مضمون کو سو رنگ سے باندھنے‘ کا ہنر انھیں خوب آتا ہے۔

ہر شخص کا ذہن،اس کی سوچ اور لوگوں کو برتنے اور سمجھنے کا زاویہ مختلف ہوتا ہے ؛اس لیے کوئی ضروری نہیں کہ شورش نے جن شخصیات کی تحسین کی ان سے سب اتفاق رکھیں یا جو ان کی نظروں میں بار نہ پاسکیں،وہ واقعتاً ایسی ہی تھیں؛کیونکہ خود شورش ہی کے الفاظ میں’کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خوب صورت الفاظ کانوں کو اور خوب صورت چہرے آنکھوں کو دھوکہ دے جاتے ہیں‘۔اسی طرح شورش کی طبیعت میں ایک گونہ انتہا پسندی بھی تھی،جو ان کی تحریروں میں بھی کہیں کہیں نظر آجاتی ہے؛چنانچہ اپنی ممدوح شخصیات کو بے طرح بڑھانا اور غیر ممدوح افراد میں مین میخ نکالنے کے سو جتن کرنا،جو عام انسانی فطرت ہے،اس کی جھلک بھی بعض دفعہ شورش کے یہاں ملتی ہے۔ البتہ اس میں کلام نہیں کہ علم و ادب،سیاست،سماجیات،مذہبیات وغیرہ سے تعلق رکھنے والی برصغیر کی اہم ترین 175شخصیات کے یہ قلمی چہرے ہمیں ان کے بارے میں بہت سی نئی معلومات فراہم کرتے اور ان کے اطوار و کردار کے کچھ اہم پہلووں سے آگاہ کرتے ہیں ۔اس پر مستزاد شورش کا دل انگیز و طربناک اسلوب ہے،جو قاری پر اپنا غیر معمولی اثر چھوڑتا اور ان کی ادبی بلند قامتی،رعنائی وزیبائی کے کئی روپ اس پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔مقامِ مسرت ہے کہ اس دلچسپ کتاب کی ہندوستان میں اشاعت ’نگارشات بک اسٹور ،دیوبند‘ کے زیر اہتمام عمل میں آئی ہے۔برادرم عبدالرحمن قاسمی جو عمدہ اور معیاری کتابوں کی تجارت کے حوالے سے اردو دنیا میں اچھی شہرت و شناخت رکھتے ہیں،انھوں نے ’قلمی چہرے‘ کے ذریعے طباعت و اشاعت کے شعبے میں بھی قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ہے۔اس شاندار کتاب کی خوب صورت اشاعت پر انھیں تہہ دل سے مبارک باد پیش ہے اور دعا ہے کہ توسیعِ علم و ادب کا ان کا جذبہ یوں ہی تاباں و فروزاں رہے اور مادی و معنوی آسایشیں ان کا مقدر ہوں ۔

شورش کی تحریروں میں یوں تو ہر ادب دوست اور کتاب بینی کا ذوق رکھنے والے شخص کی دلچسپی کا وافر سامان ہے،مگر خاص طور پر نئی نسل کے اُن لوگوں کوشورش کی ’قلمی چہرے‘ ہی نہیں، ان کی دوسری کتابیں بھی ضرور پڑھنی چاہئیں، جو واقعتاً قلم کتاب سے انسیت رکھتے اور مطالعہ و تحریر سے جنھیں شغف ہے۔جو کچھ وہ لکھتے ہیں اس کی واقعیت و معروضیت کا کم و کیف آپ کے علم و فہم و تحقیق کی وسعت و گیرائی پر موقوف ہے ،مگر معیاری زبان سیکھنے اور اسلوب و اظہار کی پرکیف اداؤں سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے شورش کاشمیری کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ ’’قلمی چہرے‘‘ کے حصول کے لیے ناشر سے اس نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے : 8791519573

Comments are closed.