Baseerat Online News Portal

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہدایت پر ممبئی میں مسلمانوں نے کالی پٹی باندھ کر نماز جمعہ ادا کی

ممبئی: ۲۸ مارچ (نمائندہ خصوصی) وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیراہتمام 17 مارچ کو دہلی کے جنتر منتر پر عظیم الشان دھرنا دیا گیا، اس کے بعد 26 مارچ کو پٹنہ کے گردنی باغ میں دھرنے کا انعقاد کیا گیا، اسی دوران آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اعلیٰ قیادت نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے الوداع جمعہ کے موقع پر تمام مسلمان اپنے بازو پر کالی پٹی باندھ کر پرامن اور خ؛ موش احتجاج درج کرائیں، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے پورے ہندوستان میں مسلمانوں نے اپنے بازو پر کالی پٹی باندھ کر جمعہ کی نماز ادا کی اور اس طرح یہ پیغام دیا کہ ہم اپنی قیادت کے ساتھ ہیں اور قیادت پر ہمیں مکمل اعتماد اور بھروسہ ہے، اور ہم غیر منصفانہ اور ظالمانہ وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف ہیں اور اس کو مسترد کرتے ہیں، اس موقع پر مسلمانوں نے مکمل اتحاد اور یکجہتی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے حکومت وقت کو واضح پیغام دیدیا کہ ہم کسی بھی حال میں غیر دستوری اور غیر جمہوری وقف بل کو قبول نہیں کریں گے اور اس کے خلاف اپنی اعلی قیادت کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور جب قیادت ہم سے جو مطالبہ کرے گی ہم اس پر لبیک کہیں گے.

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اپیل پر کم وقت ہونے کے باوجود شہر اور مضافات میں اس کا خاصا اثر دیکھا گیا، اور مسلمانوں نے اس اپیل پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے اپنے بازوؤں پر کالی پٹی باندھ کر مسجد پہونچے، اس موقع پر ممبئی کے علاوہ مضافات ممبئی میں گونڈی، چیتاکیمپ، وڈالا، سیوڑی، قدوائی نگر، سائن، ممبرا، میرا روڈ، بھیونڈی، کرافورڈ مارکیٹ، مسافرخانہ، چکلہ، فارس روڈ، ممبئی سینٹرل، مدنپورہ، ڈونگری،مالونی ملاڈ وغیرہ کی مساجد میں بڑی تعداد میں نمازی کالی پٹی لگاکر نماز کو جاتے نظر آئے، بیشتر مساجد میں وقف کی اہمیت، ضرورت اور ترمیمی بل کے نقصانات پر آئمہ کے خطاب بھی ہوئے ـ

اس موقع پر گوونڈی کی انوار جامع مسجد کے باہر ایک اور خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملا، کچھ غیور نوجوان ہاتھوں میں فلسطین کی حمایت میں پلے کارڈ اٹھائے ہوۂے تھے اور دستخطی مہم چلا رہے تھے، پلے کارڈ پر واضح طور پر لکھا ہوا تھا کہ فلسطینی مظلوم ہیں، ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور الاقصی کی حفاظت ہمارا دینی و ملی فریضہ ہے، بڑی تعداد میں مسلمان دستخطی مہم کا حصہ بن رہے تھے اور ان غیور نوجوانوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے.

Comments are closed.