Baseerat Online News Portal

امارت شرعیہ: دینی ادارہ یا خاندانی وراثت؟ ایک ذمہ دار شخص کا سچا اعتراف

محمدابوطالب رحمانی
(تاحیات ٹرسٹی امارت شرعیہ پٹنہ )
تحریر: ایک شرمندہ مگر باخبر فرد کی طرف سے۔(جو جناب فیصل رحمانی صاحب کی امارت کے انتخاب میں شامل تھا)امارت شرعیہ صرف بہار، اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے مسلمانوں کا ادارہ نہیں، بلکہ برصغیر کے دینی شعور کی علامت ہے۔ یہ ایک مقدس امانت ہے جس کا ہر مسلمان پر حق ہے، اور جس کی سربراہی کسی خاندان یا فرد کی موروثی جاگیر نہیں ہو سکتی۔
پس منظر: ایک فیصلے کی ابتدا:جب حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کا وصال ہوا تو پوری ملت سوگوار تھی۔ انہی ایّام میں تعزیتی نشست کے دوران، ان کے فرزند جناب فہد رحمانی صاحب نے مجھ سے کہا کہ حضرت کے بڑے بیٹے، جناب فیصل رحمانی صاحب کو اگلا امیر شریعت بنایا جائے۔
دل غم سے بوجھل تھا، موقع تعزیت کا تھا، اس لیے زیادہ غور نہ کیا۔ بعد میں فہد صاحب نے مجھ سے کلکتہ میں ملاقات کی، اور بڑے وثوق سے کہا کہ فیصل صاحب جامعہ ازہر (مصر) کے فارغ التحصیل ہیں، مفتی بھی ہیں، اور امریکہ کی ایک بڑی یونیورسٹی میں اسلامیات کے شعبے کے صدر ہیں۔ وہ دینی و عصری علوم کے جامع ہیں اور امارت شرعیہ کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔یہ باتیں سن کر میں بھی پ ±رامید ہوا، اور دل سے ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا۔ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوا۔ جناب فیصل صاحب کو امیر شریعت منتخب کرایا، حالانکہ اس وقت بھی ملک کے کئی جید علما نے مجھے ذاتی طور پر پیغام دے کر خبردار کیا تھا کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
حقیقت کی بے رحم دھوپ: چند ماہ بعد مجھے معلوم ہوا کہ جناب فیصل صاحب نے نہ صرف کسی باقاعدہ مدرسے سے دینی تعلیم حاصل نہیں کی، بلکہ وہ عالم اور مفتی ہونے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ ہندوستانی شہری بھی نہیں، بلکہ امریکی پاسپورٹ کے حامل ہیں۔
جب مجھے تمام ثبوت اور شواہد مل گئے، تو دل کو شدید دھچکا لگا۔ میں کئی دن تک اپنے ضمیر کے ساتھ کشمکش میں رہا۔ مجھے وہ تمام علمائ یاد آئے جنہوں نے بروقت مشورہ دیا تھا۔ایک موقع پر، میں نے فہد صاحب سے خود سوال کیا کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ انہوں نے صرف اتنا کہا:“اب جو ہونا تھا، وہ ہو چکا اب کچھ نہیں بدلے گا۔” جناب فیصل صاحب کو بھی گواہ بنا کر کلکتہ میں سمجھایا تھا۔
اختیارات کا ارتکاز، ٹرسٹ کا بائیکاٹ:آہستہ آہستہ مجھے احساس ہونے لگا کہ یہ معاملہ صرف فیصل صاحب کی امارت کا نہیں، بلکہ پورے ادارے پر قبضے کا ہے۔ فیصل صاحب “امیرالمو ¿منین” کہلانے لگے، ٹرسٹی حضرات کو نظرانداز کیا گیا، اہم فیصلے تنہا ہونے لگے، اور پھر خاموشی سے فہد صاحب کو بھی ٹرسٹ میں شامل کر نی کی سازش رچی گئی— بغیر اعتماد کے، بغیر شفافیت کے۔ جسکی گرفت بھی ہوئی ۔
عملاً امارت شرعیہ کے تمام امور کی باگ ڈور فہد صاحب کے ہاتھ میں آگئی، جن کا انداز عمل ایک حاکمانہ مزاج کا عکاس تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے امارت کا عملہ “رحمانی 30” کی خدمت میں زیادہ مصروف نظر آنے لگا، اور امارت، رحمانی 30 کا برانچ آفس بن کر رہ گئی۔
مالی بدعنوانی: امانت میں خیانت:بتدریج معلوم ہوا کہ امارت کے ذیلی اداروں سے، مختلف پراجیکٹس کے نام پر کروڑوں روپے کی بے قاعدہ خرچیاں ہو رہی ہیں۔ ٹرسٹی حضرات کی منظوری کے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں، بیت المال کا کوئی حساب نہیں، اور جب کسی نے سوال کیا تو اسے “مخالف” یا “دشمن” گردانا گیا۔
میرے اصرار پر بمشکل ایک میٹنگ 4جنوری2024 کو بلائی گئی، لیکن پھر پورے14 مہینے گزر جانے کے بعد بھی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ امارت اب شفافیت سے کوسوں دور تھی۔
۲۸ رمضان ۱۴۴۶ھ کا واقعہ: رنگے ہاتھوں پکڑنے کی کوشش.:جمعہ،27 رمضان کی شام ایک باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی کہ امارت شرعیہ کے چندہ جمع کرنے والے محصلین کی رقم، حسب سابق، اندرونی افراد کے ذریعے خرد برد کی جا رہی ہے، اور فہد صاحب اس میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسی کے پیش نظر، میں سمیت کئی ٹرسٹی حضرات نے طے کیا کہ اگلے دن اچانک امارت شرعیہ پٹنہ پہنچا جائے اور معاملے کی جانچ کی جائے۔ حفاظتی اقدام کے تحت مقامی پولیس کو بھی اطلاع دی گئی۔
جب ہم 28 رمضان کو امارت پہنچے تو پہلے سے فہد صاحب وہاں موجود تھے۔ ہمیں دیکھتے ہی ہڑبڑا گئے، اور جلدی جلدی اپنے لوگوں کو بلانا شروع کر دیا۔ باہر کے لوگوں کو یہ جھوٹا پیغام دیا گیا کہ”نتیش کمار نے امارت پر حملہ کرایا ہے!“ تاکہ جذبات بھڑکیں اور اصل مسئلہ چھپ جائے۔یہی ہوا۔ جذباتی عوام، جو اصل حقائق سے ناواقف تھے، احتجاج پر اتر آئے اور اصل مجرم خود کو مظلوم بنا کر پیش کرنے میں کامیاب ہو نے کی کوشش کرتا رہا۔ جب کہ ہم، جو امارت کے تحفظ کے لیے آئے تھے، میڈیا اور سوشل میڈیا کی نظر میں ”باغی“ بنا دیے گئے۔
میری عاجزانہ معذرت:میں ایک بار پھر، پوری دیانت کے ساتھ، اپنے علماء ، اکابرین، اور پوری ملت اسلامیہ سے معافی مانگتا ہوں کہ میں نے حقائق جانے بغیر ایک ایسے شخص کی امارت میں تعاون کیا، جو نہ عالم ہے، نہ مفتی، نہ دینی تعلیم یافتہ، نہ ہندوستانی شہری۔میری گزارش ہے کہ اس معاملے کو صرف شخصیات کا مسئلہ نہ سمجھا جائے، بلکہ ایک دینی امانت کے ساتھ ہونے والی خیانت اور اس کے انجام پر غور کیا جائے۔
اللہ رب العزت ہمیں سچ کہنے، سننے اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔امارت شرعیہ اور تمام دینی اداروں کو اہل، دیانت دار، اور باکردار قیادت عطا فرمائے۔آمین۔

Comments are closed.