Baseerat Online News Portal

عید الفطر کے فرحت بخش موقع پر مسلمانانِ عالم کے لئےمولانا محمد ہارون خان المظہری کا سدا بہار پیغام !

انوارالحق قاسمی
(ترجمان جمعیت علماء روتہٹ نیپال)
متنوع اور کئی اہم خصوصیات کا حامل ماہ رمضان المبارک ہم پر اپنی تمام تر رحمتیں،برکتیں اور رونقیں انتہائی سرعت کے ساتھ بکھیرتا ہوا اپنی آخری منزل تک جا پہنچا ہے اور عید سعید: یعنی عام مغفرت اور انعامات خداوندی کے دن کی آج مبارک آمد ہے۔ چناں چہ عید سعید کے فرحت بخش آمد کے حسین موقع پر ملک نیپال کی مقتدر اور صاحب علم وفضل شخصیت مولانا محمد ہارون خان المظہری( صدر جامعہ حفصہ للبنات و دارالعلوم ہدایت الاسلام انروا ومجلس تحفظ ختم نبوت سنسری نیپال و نائب صدر جمعیت علماء نیپال وسرپرست معہد ام حبیبہ للبنات جینگڑیا روتہٹ نیپال) نے مسلمانانِ عالم کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ : ’’یقینا عید الفطر کا دن عام مغفرت اور انعامات الٰہی کادن ہے‘‘۔ جو مسلمان بھی ایمان و احتساب کے ساتھ ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھے ہیں اور قیام اللیل:یعنی تراویح کی نمازیں پڑھی ہیں ،تو پھر وہ آج کے دن عید گاہ سے اپنے گھر کو گناہوں سے پاک صاف ہوکر لوٹیں گے۔ لوگ جب عید الفطر کے دن عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں،تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں : ’’کیا بدلہ ہے اُس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو؟‘‘ وہ عرض کرتے ہیں : ’’اے ہمارے معبود اور ہمارے مالک! اُس کا بدلہ یہی ہے کہ اُس کی مزدوری اُس کو پوری پوری دے دی جائے ۔‘‘ تو حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اُن کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطاکردی ‘‘۔
مولانا نے کہا:’’ واضح رہے کہ اس عام مغفرت اور انعامات کے دن بھی چند سیاہ بخت افراد ہیں ، جن کی بخشش نہیں کی جاتی ہے۔ وہ مندرجہ ذیل افراد ہیں:ایک وہ شخص جو شراب کا عادی ہو۔دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرنے والا ہو ۔تیسرا وہ شخص جو قطع رحمی کرنے والا اور ناطہ توڑنے والا ہو ۔چوتھا وہ شخص جو (دِل میں)کینہ رکھنے والا ہو اور آپس میں قطع تعلق کرنے والا ہو ‘‘۔ اس لیے ان بدترین اوصاف کے حاملین کو چاہیے کہ توبہ و انابت الی اللہ میں عجلت کا مظاہرہ کرے؛کیوں کہ بندہ جب صدق دل سے توبہ کرتاہے،تو پھر باری تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے اور پھروہ ایسا ہوجاتاہے،جیساکہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں ہے،الحدیث:’’التائب من الذنب مالاذنب ل‘‘۔
مولانا نے مزید یہ کہاکہ :’’عید الفطر کے دن مال دار مسلمانوں کےلیےضروری ہے کہ وہ دوگانہ عید الفطر کی ادائیگی سے پہلے پہلے ضرور صدقہ فطر ادا کردے،تاکہ غرباء،مساکین بھی عید کی خوشی میں برابر کے شریک ہوسکے‘‘۔
مولانا نے کہاکہ : ’’عید کے دو خطبوں کے درمیان،جو چند سیکنڈ وقفہ کی گھڑ ہوتی ہے،وہ گھڑی در اصل دعاؤں کی قبولیت کی خاص گھڑی ہوتی ہے؛اس لیے اس خاص گھڑی میں عالم کے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دل ہی دل میں بدبخت اور ظالم ترین ملک اسرائیل کے تباہ و برباد ہونے اور سراپا مظلوم ملک فلسطین کی فتح ونصرت کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں امن وامان کے قیام اور مذہب اسلام کی سربلندی کی ضرور دعائیں کرے!‘‘۔
مولانا نے مزید یہ کہاکہ :’’ عید الفطر کےدن مسلمانوں کو ہر اس عمل سے بچنا چاہیے،جس سے ہماری شناخت مجروح ہوتی ہو اور ہم اپنے عمل سے ایسا خوش نما پیغام دے کہ برادرانِ وطن بھی یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ’’واقعی مسلمانوں کا تہوار کتنا ہی اچھا ہے‘‘۔ اللہ ہم سبھوں کو حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے اور بار بار ماہ رمضان المبارک کی مبارک گھڑیوں سے مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمائے آمین۔

Comments are closed.