Baseerat Online News Portal

حکومت مذاکرات کرے، طاقت سے ہمیں کوئی نہیں چھڑا سکتا: اسرائیلی قیدی کا پیغام

بصیرت نیوزڈیسک
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے ایک اسرائیلی قیدی کی ایک ویڈیو نشر کی ہے جو اپنی رہائی کی درخواست کر رہا ہے۔ بریگیڈز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہی ویڈیو ریکارڈ کرنے کی درخواست کی تھی۔
قیدی کا کہنا تھا کہ اس کا نمبر 22 ہے۔ اسے چیختے ہوئے دیکھا گیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ "جناب وزیراعظم حماس نے مجھے یہ ویڈیو ریکارڈ کرنے کے لیے نہیں کہا۔ یہ نفسیاتی جنگ نہیں ہے۔ میرے لیے اصل نفسیاتی جنگ میرے بیٹے اور بیوی کو دیکھے بغیر قید رہنا ہے۔ یہ مجھ بہت تکلیف دے رہا ہے‘۔
اس نے مزید کہاکہ "آپ نہیں سمجھ رہے،میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں، میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔میں جنرل ورکرز یونین کی طرف جا رہا ہوں، میں اپنی بیوی کو یہاں سے نکالنا چاہتا ہوں‘‘۔
اس نے مزید کہاکہ”مجھے یہاں سے نکالو۔ میں ورکرز کمیٹی کے تحت 15 سال سے کام کر رہا ہوں اور میں نے ان سے کبھی کچھ نہیں پوچھا۔ آپ اپنے معزز کارکنوں کا دفاع کر رہے ہیں، آپ میرا دفاع کیوں نہیں کر رہے؟”
قیدی نے قابض حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا، "مجھے یہاں سے نکال دو۔ تم نے ایک معاہدہ کیا اور خواتین فوجیوں، بوڑھوں اور باقی سب کو باہر جانے دیا۔ ہمارا کیا ہوگا؟ میری بیوی اکیلی کیوں ہے؟ میرا بیٹا ‘ مجھ سے دور کیوں ہیں‘۔
کیوں؟کیوں؟ ہمیں یہاں سے نکالو” وہ روتے ہوئے بولا۔ "یہ مشکل ہے۔ میں آپ سے بھیک مانگ رہا ہوں۔ بہت ہو گیا۔ میں 15 سال سے ورکرز یونین کے تحت کام کر رہا ہوں۔ کیا میں اس کا مستحق نہیں ہوں؟ میرے لیے باہر نکلو۔ میری آواز اور میری چیخیں سنو”۔
اسرائیلی قیدی نے کہاکہ "میں آپ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگتا، بس مجھے یہاں سے نکال دو، میری صرف یہی درخواست ہے، میں ورکرز یونین سے یہی کہتا ہوں، میرے لیے کام کرو، میں اس کا مستحق ہوں، میں ایک ٹھیکیدار ہوں جو 15 سال سے کام کر رہا ہوں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی بھی ہمارے جیسے حال میں نہیں ہے۔ ہم 24 گھنٹے بمباری کی زد میں رہتے ہیں”۔
روز دھماکے ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ ہمیں زبردستی باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں کون زبردستی نکالے گا؟ کوئی نہیں کر سکتا۔ یہ ہمیں مار دے گا اور ہمارا خاتمہ ہو گا۔ آپ کو اس کا احساس نہیں ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ میں یہاں مر جاؤں گا۔ براہ کرم ہماری مدد کریں۔ جو کوئی مدد کر سکتا ہے، براہ کرم مدد کریں”۔

Comments are closed.